آپا[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - نفس، ذات، ہستی، وجود۔ "جو ہے اپنا ہی آپا دیکھتا ہے اور دوسرے کو کچلنے کی فکر میں رہتا ہے۔"      ( ١٩٤٢ء، عروس ادب، ١١٢ ) ٢ - ہوش و حواس "ساری عمر دریا کے کنارے گزر گئی مگر اپنا آپا میلا کا میلا رکھا۔"      ( ١٩١٨ء، چٹکیاں اور گدگدیاں، ١٩ ) ٣ - خودی، شخصیت ذاتی۔ "میرا آپا یعنی خودی میری روح ہے"۔      ( ١٨٩٤ء، تعلیم الاخلاق، ٥ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ لفظ 'آپ' کو اردو میں اس طرح بھی استعمال کیا جاتا ہے، ہندی میں 'این' اور 'آپ' مستعمل ہے، اردو میں سب سے پہلے ١٦٥٤ء میں "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نفس، ذات، ہستی، وجود۔ "جو ہے اپنا ہی آپا دیکھتا ہے اور دوسرے کو کچلنے کی فکر میں رہتا ہے۔"      ( ١٩٤٢ء، عروس ادب، ١١٢ ) ٢ - ہوش و حواس "ساری عمر دریا کے کنارے گزر گئی مگر اپنا آپا میلا کا میلا رکھا۔"      ( ١٩١٨ء، چٹکیاں اور گدگدیاں، ١٩ ) ٣ - خودی، شخصیت ذاتی۔ "میرا آپا یعنی خودی میری روح ہے"۔      ( ١٨٩٤ء، تعلیم الاخلاق، ٥ )

اصل لفظ: آپ
جنس: مذکر